ممبئی، 26/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ممبئی میں جمعرات کو وقف بل پر ہونے والے پارلیمانی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی، جس کے نتیجے میں اپوزیشن جماعتوں نے واک آؤٹ کر دیا۔ تاہم کچھ وقت بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔ رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران شیو سینا کے ایم پی نریش مہاسکے اور ٹی ایم سی کے کلیان بنرجی کے درمیان لفظی جھڑپ ہوئی۔
گلشن فاؤنڈیشن وقف بل کی حمایت کر رہا تھا۔ اسی دوران نریش مہاسکے نے کلیان بنرجی کو روکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ ماحول گرم ہوا تو چیئرمین نے بھی مداخلت کی۔ بالآخر اپوزیشن جماعتوں کے تمام نمائندوں نے انہیں اجلاس سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، کچھ باہمی بات چیت کے بعد اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جے پی سی کا اجلاس پھر شروع ہو گیا۔
خیال رہے کہ مرکزی کابینہ نے وقف ایکٹ میں تقریباً 40 ترامیم کو منظوری دے دی ہے۔ ان ترامیم کا مقصد وقف بورڈ کی کسی بھی جائیداد کو 'وقف جائیداد' کے طور پر نامزد کرنے کے حق کو محدود کرنا ہے۔ جائیدادوں پر کئے گئے دعووں کی لازمی طور پر وقف بورڈ سے تصدیق کی جائے گی۔ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد وقف املاک کے انتظام اور منتقلی میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون میں ترمیم کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔ اس میں جسٹس سچر کمیشن اور کے رحمان خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
وقف ایکٹ مسلم کمیونٹی کی جائیدادوں اور مذہبی اداروں کے انتظام و انصرام کے لیے بنایا گیا قانون ہے۔ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد وقف املاک کے مناسب تحفظ اور انتظام کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان جائیدادوں کو مذہبی اور خیراتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اسلام میں وقف جائیداد ایک مستقل مذہبی اور خیراتی ٹرسٹ کے طور پر وقف کی جاتی ہے، جو مذہبی مقاصد، غریبوں کی مدد، تعلیم وغیرہ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وقف املاک کے انتظام کے لیے ہر ریاست میں ایک وقف بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ بورڈ وقف املاک کا اندراج، تحفظ اور انتظام کرتا ہے۔